MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر ارادہ سینۂ شمشیر میں ڈوبا ہوا

ہر ارادہ سینۂ شمشیر میں ڈوبا ہوا
حال ہے کس نشۂ تسخیر میں ڈوبا ہوا

آنکھ تو اب تک طلسم خال و خد کی ہے اسیر
دل نکلتا ہی نہیں تصویر میں ڈوبا ہوا

حرف تو سارے کے سارے بے صدا مجھ کو لگے
خط اگرچہ تھا بہت تحریر میں ڈوبا ہوا

بام در کے ٹوٹنے میں ہی کہیں موجود ہے
ایک امکاں خواہش تعمیر میں ڈوبا ہوا

وہ اچانک سامنے آیا تو مجھ کو یوں لگا
خواب تھا جیسے کوئی تعبیر میں ڈوبا ہوا

کھینچ لائیں گے اسے جاویدؔ احمد ایک دن
عدل ہے کس حلقۂ زنجیر میں ڈوبا ہوا

جاوید احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم