MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم لوگ کبھی حق کبھی ناحق پہ اڑے ہیں

ہم لوگ کبھی حق کبھی ناحق پہ اڑے ہیں
ایسے میں ہم اپنی ہی نگاہوں میں گرے ہیں

پہنے ہوئے پھرتے ہیں سبھی جھوٹ کا ملبوس
لگتے ہیں بظاہر کہ بہت صاف کھرے ہیں

ایسا تو نہیں ان میں  سمجھ بوجھ نہیں ہے
اوہام پرستی میں مگر پھر بھی گھرے ہیں

چہرے پہ بناوٹ کی محبت کا ہے غازہ
دل سب کے مگر گرد_ کدورت سے بھرے ہیں

اپنوں کی عنایات کی برسات سے اب تک
جو زخم ملے ہم کو وہ تازہ ہیں ہرے ہیں

ان سے  رہے دوری  جو  پرستار ۔انا ہیں
یہ لوگ حقیقت میں تمھارے نہ مرے ہیں

پروفیسر رضیہ  سبحان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم