MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہیں سحر مصور میں قیامت نہیں کرتے

غزل

ہیں سحر مصور میں قیامت نہیں کرتے
رنگوں سے نکلنے کی جسارت نہیں کرتے

افسوس کے جنگل میں بھٹکتے ہیں خیالات
رم بھول گئے خوف سے وحشت نہیں کرتے

تم اور کسی کے ہو تو ہم اور کسی کے
اور دونوں ہی قسمت کی شکایت نہیں کرتے

مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا
اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے

یہ کہہ کے ہمیں چھوڑ گئی روشنی اک رات
تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم