MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یا تو تاریخ کی عظمت سے لپٹ کر سو جا

یا تو تاریخ کی عظمت سے لپٹ کر سو جا
یا کسی ٹوٹے ہوئے بت سے چمٹ کر سو جا

ننھا بچہ ہے تو آ ماں کے گھنے آنچل میں
رات کی چھلنی سڑک ہی سے لپٹ کر سو جا

ہر گھڑی شور مچاتی ہوئی مخلوق کے بیچ
اپنے ہونے کے یقیں سے ذرا ہٹ کر سو جا

نیند اڑنے کا مزہ تو بھی چکھا دے ان کو
چال مکار ستاروں کی الٹ کر سو جا

اوڑھ لے سارے بدن پر تو ہوا کی چادر
اور طوفان کی بانہوں میں سمٹ کر سو جا

اے خلیفہ اے نئے وقت کے ہارون رشید
تو روایات شب عدل سے کٹ کر سو جا

ف س اعجاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم