MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یاد کرنے کا تمہیں کوئی ارادہ بھی نہ تھا

یاد کرنے کا تمہیں کوئی ارادہ بھی نہ تھا
اور تمہیں دل سے بھلا دیں یہ گوارا بھی نہ تھا

ہر طرف تپتی ہوئی دھوپ تھی اے عمر رواں
دور تک دشت الم میں کوئی سایا بھی نہ تھا

مشعل جاں بھی جلائی نہ گئی تھی ہم سے
اور پلکوں پہ شب غم کوئی تارا بھی نہ تھا

ہم سر راہ وفا اس کو صدا کیا دیتے
جانے والے نے پلٹ کر ہمیں دیکھا بھی نہ تھا

ہو گئی ختم سرابوں میں بھٹکتی ہوئی زیست
دل میں حسرت ہی رہی دشت میں دریا بھی نہ تھا

کس خموشی سے جلا دامن دل اے گلنارؔ
کوئی شعلہ بھی نہ تھا کوئی شرارا بھی نہ تھا

گلنار آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم