MOJ E SUKHAN

یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھی

غزل

یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھی
چشم صد نظارہ مشکل سے اٹھی

بازگشت شور غرقابی سہی
کوئی تو آواز ساحل سے اٹھی

قافلے ہیں کتنے درماندہ خرام
گرد راہوں سے نہ منزل سے اٹھی

تھام کر دل کیا اٹھے ارباب درد
اک قیامت تیری محفل سے اٹھی

سر سے بھی گزری ہے طوفاں کی طرح
جب بھی کوئی موج خوں دل سے اٹھی

چشم نظارہ سے مانند حجاب
تہمت نظارہ مشکل سے اٹھی

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم