MOJ E SUKHAN

راہ الفت میں مقامات پرانے آئے

غزل

راہ الفت میں مقامات پرانے آئے
تم نہ آئے تو مجھے یاد فسانے آئے

وقت رخصت نہ دیا ساتھ زباں نے لیکن
اشک بن کر مری آنکھوں میں ترانے آئے

رات کے وقت ہر اک سمت تھے نقلی سورج
سائے تھے اصل جو کردار نبھانے آئے

وقت آتا ہی نہیں لوٹ کے یہ بات ہے جھوٹ
میری آنکھوں میں کئی گزرے زمانے آئے

زندگی ہار گئی ہار کا ماتم نہ کیا
ایسے لمحات تو کتنے ہی نہ جانے آئے

گھر مرا جل گیا لیکن یہ تسلی ہے مجھے
آگ جو دے کے گئے آگ بجھانے آئے

گوند گلشن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم