MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ زمیں رقص میں ہے سارا جہاں رقص میں ہے

یہ زمیں رقص میں ہے سارا جہاں رقص میں ہے
بعد مدت کے وہی شعلۂ جاں رقص میں ہے

جل اٹھے ذہن کے ایوان میں لفظوں کے چراغ
آج پھر گرمئ انداز بیاں رقص میں ہے

پھر کسی یاد کی کشتی میں رواں ہیں لمحات
جوئے دل رقص میں ہے وادئ جاں رقص میں ہے

کتنا جاں بخش ہے یہ عشق کی وادی کا سفر
نغمہ زن طائفۂ لذت جاں رقص میں ہے

بند آنکھوں میں لرزتا ہے کوئی منظر نور
جیسے تابندہ ستاروں کا جہاں رقص میں ہے

محضر شوق میں پیکار گماں سے آگے
ذہن ہے نغمہ سرا جذب نہاں رقص میں ہے

خواب تو خواب ہیں پل بھر میں بکھر جاتے ہیں
سچ تو یہ ہے کہ بس اک خواہش جاں رقص میں ہے

بیچ ساگر میں تو تھے حوصلے موجوں سے بلند
اور ساحل پہ اک احساس زیاں رقص میں ہے

زاہدہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم