MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ سوچ کے راکھ ہو گیا ہوں

غزل

یہ سوچ کے راکھ ہو گیا ہوں
میں شام سے صبح تک جلا ہوں

جس دل میں پناہ ڈھونڈھتا تھا
اب اس سے پناہ مانگتا ہوں

پہلے بھی خدا کو مانتا تھا
اور اب بھی خدا کو مانتا ہوں

وہ جاگ رہا ہو شاید اب تک
یہ سوچ کے میں بھی جاگتا ہوں

اے میرا خیال رکھنے والے
کیا میں ترے ذہن میں بسا ہوں

مرتا ہوں کہ مر مٹوں گا آخر
جینے کو تو عمر بھر جیا ہوں

ہر شخص بچھڑ چکا ہے مجھ سے
کیا جانیے کس کو ڈھونڈھتا ہوں

ہے مجھ سے ہی زندگی عبارت
میں زیست کا تلخ تجربہ ہوں

کیا سمجھے گا کوئی مجھ کو صابرؔ
میں ذات سے اپنی ماورا ہوں

صابر ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم