MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ میرا ہونا کوئی میرا امتحاں تو نہ تھا

یہ میرا ہونا کوئی میرا امتحاں تو نہ تھا
مرے یقین پہ حاوی مرا گماں تو نہ تھا

وہ میرے ساتھ رہا اور پھر بچھڑ بھی گیا
بچھڑ کے زندہ رہوں گا مرا گماں تو نہ تھا

اسے یہ زعم کے وہ حسن بے مثالی ہے
مری طرح کا بشر تھا وہ آسماں تو نہ تھا

یہ کون جانے محبت میں مجھ پہ کیا گزری
سلگ رہا تھا مسلسل مگر دھواں تو نہ تھا

میں اس کی تشنہ لبی کیسے دور کرتا بھلا
میں اک بشر تھا ندی کوئی میں رواں تو نہ تھا

میں سوچتا ہوں یہی آج کل کے عشق مرا
مری طرح سے زمانے میں بے اماں تو نہ تھا

وفا کے باب میں اقبال میں نے جانا ہے
جو ہو رہا ہے سفر حرفِ رائیگاں تو نہ تھا

ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم