MOJ E SUKHAN

آنکھ امکان سے بھری ہوئی تھی

غزل

آنکھ امکان سے بھری ہوئی تھی
اور میں خواب میں ڈری ہوئی تھی

زخم گنتی تھیں انگلیاں اپنے
کوشش آئینہ گری ہوئی تھی

ہجر کیا خوب کیفیت لایا
ان دنوں کتنی شاعری ہوئی تھی

کیا اسی میں ہی عشق پنہاں تھا
اک نگہ وہ بھی سرسری ہوئی تھی

کیسا محسوس ہو رہا تھا تمہیں
جب مدینے میں حاضری ہوئی تھی

اس نے آنکھوں میں بات کی مجھ سے
خامشی ہونٹ پر دھری ہوئی تھی

سبز تتلی تھی راشدہؔ ماہین
نرگسی پھول پر مری ہوئی تھی

راشدہ ماہین ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم