MOJ E SUKHAN

اسیر بزم ہوں خلوت کی جستجو میں ہوں

غزل

اسیر بزم ہوں خلوت کی جستجو میں ہوں
میں اپنے آپ سے ملنے کی آرزو میں ہوں

مری سرشت میں رنگ بہار ہے لیکن
بہت دنوں سے کسی باغ بے نمو میں ہوں

تو مجھ کو بھول گیا ہے مگر مرے مطرب
میں درد بن کے ترے نغمۂ‌‌ گلو میں ہوں

خزاں رسیدہ کسی نخل نیم جاں کے تلے
مجھے بھی دیکھ اسی شام زرد رو میں ہوں

بھٹکتا رہتا ہوں شام و سحر نہیں معلوم
میں کسی تلاش میں ہوں کس کی جستجو میں ہوں

وہ جس کے طرز مسیحائی پر ہے شہر نثار
اسی کی تیغ سے ڈوبا ہوا لہو میں ہوں

میں ایک آتش خواب آفریدہ کی صورت
کبھی چراغ کی لو میں کبھی سبو میں ہوں

تو میرے لفظوں سے باہر مجھے تلاش نہ کر
چھپا ہوا میں کہیں اپنی گفتگو میں ہوں

پکارتا ہوں مدد کو کوئی نہیں آتا
ستم کی شام ہے اور نرغۂ عدو میں ہوں

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم