MOJ E SUKHAN

ایک نظم

نظم

کس تصور کے رقص میں گو
تری صدا کا وجود مجھ کو ملا نہیں ہے

کسی کتاب کہن میں چلتی عظیم دانش کے نقش پا میں
ترے بدن کا نشان مجھ کو ملا نہیں ہے

میں چار سمتوں سے پوچھتا ہوں
عناصروں کے تغیروں سے

میں سلطنت کے نجومیوں سے
یہ پوچھتا ہوں

کہ کون ہے تو
جو میرے خوابوں کے سلسلے میں

مرے تفکر کے راستوں میں
نئے تنازعوں کا بیج بو کر چلی گئی ہے

کہاں کہ مجھ کو پتا نہیں ہے
زمیں کے نقشے پہ آبناؤں کے ساتھ چل کر

کبھی صدا سے بھی تیز چلتے جہاز کے دائرے دریچے سے سر لگا کر
میں ارغوانی شراب تھامے

دبیز شیشوں کی دوربیں سے
نگاہ کی آخری حدوں تک ترے تصور کو دیکھتا تھا

مگر خلا کے سوا کہیں کچھ نظر نہ آیا
یہ سوچتا ہوں کہ میں تصور کے آئینے میں

سلیس باتوں کے پیرہن میں
تجھے اتاروں تو کس طرح میں

جو زندگی کے تضاد میں ہے
جو آرزو کے فساد میں ہے

جو تیری خاطر تمام دنیا کی عشرتوں سے فرار ہو کر
نئے تمدن کے زائچے میں

نئی علامت کے دائرے میں ترے قدم کے نزول کو پھر
تلاش کرنے کی کشمکش سے گزر رہا ہے

چراغ جس کے دماغ کا
اک مراقبت میں سلگ رہا ہے

انیس ناگی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم