MOJ E SUKHAN

اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ

غزل

اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ
لٹ نہ جائے شہر دل آباد رکھ

سوچ کو احساس پر غالب نہ کر
زندگی کو خوف سے آزاد رکھ

زندگی کی چاہتیں رعنائیاں
تو ہمیشہ اپنے دل کو شاد رکھ

ظلم کا بیوپار چل سکتا نہیں
دھیان اتنا اے ستم ایجاد رکھ

ڈھنگ آ جائے گا جینے کا تجھے
ڈوبتے سورج کا منظر یاد رکھ

میں بدل دوں گا زمانے کا مزاج
پہلے تو سچائی کی بنیاد رکھ

اختر سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم