MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بہت آسان ہے دنیا میں رہنا

غزل

بہت آسان ہے دنیا میں رہنا
یہ جملہ پھر کبھی مجھ سے نہ کہنا

فقط اپنے ہی غم میں گھل رہے ہو
کبھی سیکھو کسی کا درد سہنا

کسی دن لاؤں گا سونے کے کنگن
مگر فی الحال یہ پھولوں کا گہنا

بڑا سمجھایا اور دھمکایا سب نے
مگر دریا کی فطرت میں ہے بہنا

بدن کو ڈھانپتا پھرتا ہے مورکھ
زباں کو بھی کبھی پوشاک پہنا

عمران شمشاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم