غزل
تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا
دو روز میں گلاب سا چہرہ اتر گیا
میں نے ہوا میں سکہ اچھالا تھا اور بس
ہاتھوں میں جو نصیب تھا میرا بکھر گیا
جان بہار تم نے وہ کانٹے چبھوئے ہیں
میں ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا
اس دل کے ٹوٹنے کا مجھے کوئی غم نہیں
اچھا ہوا کہ پاپ کٹا درد سر گیا
میں بھی سمجھ رہا ہوں کہ تم تم نہیں رہے
تم بھی یہ سوچ لو کہ مرا کیفؔ مر گیا
کیف بھوپالی