MOJ E SUKHAN

جب کبھی اس کی یاد آئی ہے

غزل

جب کبھی اس کی یاد آئی ہے
سو بہاریں جلو میں لائی ہے

ہو نہ ہو اس کی یاد آئی ہے
عمر رفتہ کو ساتھ لائی ہے

بادۂ عشق کا سرور نہ پوچھ
اس نے پی کر مجھے پلائی ہے

کاش مل جائے پھر گنوانے کو
زندگی ہم نے جو گنوائی ہے

مجھ کو احساس رنگ و بو نہ ہوا
یوں بھی اکثر بہار آئی ہے

تابش مہر و ماہ ہے پھیکی
جب سے وسعت نظر نے پائی ہے

تیرے بندوں کو کیا ہوا یا رب
تجھ سے دعواے آشنائی ہے

اس سے ہم داد خواہ الفت ہیں
جو فقط محو خودنمائی ہے

لالہ و گل میں ڈھونڈھنے والو
اس نے صورت کبھی دکھائی ہے

شکوۂ نارسی و ناکامی
اعتراف شکستہ پائی ہے

حبیب احمد صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم