MOJ E SUKHAN

خط میں لکھا ہے ہمیں اب لوٹ آنا چاہیے

غزل

خط میں لکھا ہے ہمیں اب لوٹ آنا چاہیے
کیا کہیں کہ لوٹنے کو اک زمانہ چاہیے

آئنہ سازی میاں اجداد کی میراث ہے
تم بتاؤگے مجھے کیسے بنانا چاہیے

دہر کی حیرت سرا میں اب تغیر ہے بپا
اک پسندیدہ ستارہ جگمگانا چاہیے

ہمدم کہنہ سہی غم ہائے قلب صد فگار
خواب پرور ساعتوں میں بھول جانا چاہیے

خواب کی تعبیر چاہے دل شکن ہی کیوں نہ ہو
آنکھ میں جلتے دیوں کو جھلملانا چاہیے

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم