MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل میں ہے فقط جلوہ نمائی ترے در کی

دل میں ہے فقط جلوہ نمائی ترے در کی
کرتی ہے نگہ مدح سرائی ترے در کی

ہے نقش مری لوحِ بصارت پہ وہ منظر
جس لحظہ ملی مجھ کو رسائی ترے در کی

سانسوں میں مری بس گئی خوشبوئے مدینہ
دھڑکن نے صدا مجھ کو سنائی ترے در کی

لوٹ آئے ہیں طیبہ سے مگر دل تو وہیں ہے
ہر لمحہ بہت یاد ہے آئی ترے در کی

ملتا ہی نہیں دل کو قرار اور کہیں اب
ہے شاق بہت اس پہ جدائی ترے در کی

کچھ اور تمنا نہیں اس قلبِ حزیں کو
مطلوب ہے بس ناصیہ سائی ترے در کی

سب جن و بشر، حور و مّلک، ارض و سماوات
محکوم ہے یہ ساری خدائی ترے در کی

وہ خاک نشیں ہو کے بھی کرتا ہے حکومت
مل جائے صبا ؔ جس کو گدائی ترے در کی

کلام: صبا عالم شاہ
انگلینڈ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم