MOJ E SUKHAN

دھول ہی دھول اڑی ہے مجھ میں

غزل

دھول ہی دھول اڑی ہے مجھ میں
سبز اک شاخ جلی ہے مجھ میں

کتنی ویرانی ہے میرے اندر
کس قدر تیری کمی ہے مجھ میں

دور تک اب تو خموشی ہے بس
دور تک اب تو یہی ہے مجھ میں

مان لیتی ہوں مکمل ہو تم
مان لیتی ہوں کمی ہے مجھ میں

خشک ہونے ہی نہیں دیتی آنکھ
وہ جو ساون کی جھڑی ہے مجھ میں

ناہید ورک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم