MOJ E SUKHAN

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا

غزل

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا
تجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گا

ابھی زندہ ہیں ہم پر ختم کر لے امتحاں سارے
ہمارے بعد کوئی امتحاں کوئی نہیں دے گا

جو پیاسے ہو تو اپنے ساتھ رکھو اپنے بادل بھی
یہ دنیا ہے وراثت میں کنواں کوئی نہیں دے گا

ملیں گے مفت شعلوں کی قبائیں بانٹنے والے
مگر رہنے کو کاغذ کا مکاں کوئی نہیں دے گا

خود اپنا عکس بک جائے اسیر آئینہ ہو کر
یہاں اس دام پر نام و نشاں کوئی نہیں دے گا

ہماری زندگی بیوہ دلہن بھیگی ہوئی لکڑی
جلیں گے چپکے چپکے سب دھواں کوئی نہیں دے گا

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم