MOJ E SUKHAN

زندگی سے حسیں اداسی ہے

غزل

 

زندگی سے حسیں اداسی ہے
یہ مری ہم نشیں اداسی ہے

کب سے پندار میں مقید ہے
کیسی پردہ نشیں اداسی ہے

لحظہ لحظہ اسے کشید کرو
کہ مے انگبیں اداسی ہے

جرعہ جرعہ پلا مجھے ساقی
من ہرن ساتگیں اداسی ہے

کعبۂ دل میں ہے جو محو طواف
جہاں تاب جبیں اداسی ہے

پربتوں وادیوں میں بستی ہے
جنگلوں کی مکیں اداسی ہے

وہ تہہ آب جل پری سی ہے
میری صحرا نشیں اداسی ہے

دیکھ کر لا رہی ہے ہستی میں
جان جاں جا گزیں اداسی ہے

سن عدم سے وجود تک ہر جا
خانماں میں مکیں اداسی ہے

جادہ و سنگ میل و مسکن میں
رہبروں کا یقیں اداسی ہے

دیپ بیم و رجا کا جاں گل ہو
دیکھنا تم وہیں اداسی ہے

ضرب اک خول کی فصیلوں میں
حاشیوں کے قریں اداسی ہے

جوہر ہست مرزا غالبؔ تھی
آج خاک بریں اداسی ہے

واں خوشی کی نمو محال سی ہے
اس کے دل کی زمیں اداسی ہے

بانو صائمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم