MOJ E SUKHAN

زندگی میں تلخیاں جھٹلا کے چل

زندگی میں تلخیاں جھٹلا کے چل
گر رہا ہے پھر بھی تو اترا کے چل

مت دبا سینے کے اندر وحشتیں
دکھ کو سُر کی شکل دے اور گا کے چل

ایک دن تو مٹ ہی جائیں گے الم
دل کو یہ باور کرا بہلا کے چل

سیدھا چلنے کے بہت نقماجد جہانگیر مرزاصان ہیں
اس لیے سیدھا نہ چل بل کھا کے چل

مت خس و خاشاک بن کر تو بکھر
جبر سے آنکھیں ملا ٹکرا کے چل

تلخ ماضی جھاڑ اپنے جسم سے
سب غموں کو جمع کر،دفنا کے چل

خواب کی تعبیر ماجد چاہیے
آگ سینے میں لگا بھڑکا کے چل

ماجد جہانگیر مرزا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم