MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سنا رہا تھا کہانی سنانے والا کوئی

غزل

سنا رہا تھا کہانی سنانے والا کوئی
اور اس کہانی میں تھا سچ بتانے والا کوئی

یہ شام بھی بڑی مصروفیت میں گزری ہے
سو یاد آیا نہیں یاد آنے والا کوئی

یہ منحرف ہے پرندوں کی دوستی سے بہت
ہے اس شجر پہ برا وقت آنے والا کوئی

گزر ہوا ہے یہ کس بے لحاظ بستی سے
ملا نہ ایک بھی پانی پلانے والا کوئی

شکستہ ناؤ میں بیٹھا تھا ایک اداس سا شخص
اور اس کے پاس تھا نقشہ خزانے والا کوئی

تم اپنی آنکھ کا صدقہ اتار لینا کبھی
کہ آگیا ہے سمندر چرانے والا کوئی

محسن جنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم