MOJ E SUKHAN

قرض سارا شگفتہ

قرض
سارا شگفتہ

میرا باپ ننگا تھا

میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے دے دئے
زمین بھی ننگی تھی

میں نے اسے
اپنے مکان سے داغ دیا

شرم بھی ننگی تھی میں نے اسے آنکھیں دیں
پیاس کو لمس دئے

اور ہونٹوں کی کیاری میں
جانے والے کو بو دیا

موسم چاند لیے پھر رہا تھا
میں نے موسم کو داغ دے کر چاند کو آزاد کیا

چتا کے دھویں سے میں نے انسان بنایا
اور اس کے سامنے اپنا من رکھا

اس کا لفظ جو اس نے اپنی پیدائش پہ چنا
اور بولا

میں تیری کوکھ میں ایک حیرت دیکھتا ہوں
میرے بدن سے آگ دور ہوئی

تو میں نے اپنے گناہ تاپ لیے
میں ماں بننے کے بعد بھی کنواری ہوئی

اور میری ماں بھی کنواری ہوئی
اب تم کنواری ماں کی حیرت ہو

میں چتا پہ سارے موسم جلا ڈالوں گی
میں نے تجھ میں روح پھونکی

میں تیرے موسموں میں چٹکیاں بجانے والی ہوں
مٹی کیا سوچے گی

مٹی چھاؤں سوچے گی اور ہم مٹی کو سوچیں گے
تیرا انکار مجھے زندگی دیتا ہے

ہم پیڑوں کے عذاب سہیں
یا دکھوں کے پھٹے کپڑے پہنیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم