MOJ E SUKHAN

پانی کا ریلا

پہاڑوں سے اترتا تند رو پانی کا ریلا
کس قدر منہ زور ہوتا ہے
کسی صورت کوئی بھی اس کا رستہ روکنا چاہے
تو ٹکراتا ہے غراتا ہے
اپنی موج میں بہتا چلا جاتا ہے
کچھ پروا نہیں کرتا
چٹانیں توڑتا ہے پتھروں کو ریزہ ریزہ کرتا جاتا ہے
کبھی غصے میں بل کھاتا ہے
سر اوپر اٹھاتا ہے
عجب انداز سے سارے مناظر دیکھتا ہے
راستے ہموار کرتا ہے
جنوں کی داستاں تحریر کرتا بڑھتا جاتا ہے
پہاڑوں کی بلندی سے اتر کر
وادیوں میں ایک شانِ دلربائی سے اترتا ہے
تو ہر سو سبزہ و گل کا تبسم پھیل جاتا ہے
ہوائیں گیت گاتی ہیں
تلاطم خیزیاں گہرائیوں سے آشنا ہو کر
نیا منظر بناتی ہیں
جنوں آمیز لہریں وسعتوں کو اوڑھتی ہیں
پھیل جاتی ہیں
زمیں کے خشک ہونٹوں پر جمی پپڑی اترتی ہے
زمیں کی پیاس بجھتی ہے
محبت سرخرو ہوتی ہے
اتراتی ہے
خوشبو میں بسے احساس کو ملبوس کرتی ہے
محبت بہتا دریا ہے
جنوں پرور بھی ہے،منہ زور بھی
گہرائیوں اور وسعتوں سے آشنا بھی ہے
یہی دریا
ہماری ذات کی بنجر زمیں سیراب کرتا ہے
ہمیں شاداب کرتا ہے

یوسف خالد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم