MOJ E SUKHAN

پھر یاد اسے کرنے کی فرصت نکل آئی

پھر یاد اسے کرنے کی فرصت نکل آئی
مت پوچھئے کس موڑ پہ قسمت نکل آئی

کچھ ان دنوں دل اس کا دکھا ہے تو ہمیں بھی
اس شخص سے ملنے کی سہولت نکل آئی

آباد ہوئے جب سے ان آنکھوں کے کنارے
دنیا جسے سمجھے تھے وہ جنت نکل آئی

جو خواب کی دہلیز تلک بھی نہیں آیا
آج اس سے ملاقات کی صورت نکل آئی

اب آ کے گلے ملتا ہے پہلے تھا گریزاں
کیا ہم سے اسے کوئی ضرورت نکل آئی

اک شخص کی محبوب نگاہی کے سبب سے
اشفاقؔ تمہاری بھی تو قامت نکل آئی

اشفاق حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم