کسی پتھر سے ٹکرانا پڑے گا
بُتِ کافر کے گھر جانا پڑے گا
پہت مرمر کے ہم جیتے رہے ہیں
تو اب جی جی کے مر جانا پڑے گا
مچل کر رہ گیا ہے دل کسی پر
اب اِس بچے کد بہلانا پڑے گا
گلی اُس کی ہے One way سوچ لینا
اگر پلٹے تو جرمانہ پڑے گا
بہت کرلی میاں آوارہ گردی
ہوئی ہے شام گھر جانا پڑےگا
۔۔رفعت اسلام صدیقی