MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گو تار عنکبوت آیا نہیں اب تک گمانوں میں

غزل

گو تار عنکبوت آیا نہیں اب تک گمانوں میں
مگر کچھ مکڑیوں کی سرسراہٹ سی ہے کانوں میں

زمیں زادوں کو اب مٹی سے تو وابستہ رہنے دو
خدارا فصل نو کا ذوق رہنے دو کسانوں میں

سروں سے آسماں بھی کیا ہٹایا جانے والا ہے
شبیہیں مہر و مہ کی ٹانکتے ہو کیوں مکانوں میں

ذرا ٹھہرو اگے گی بھوک بھی کاغذ کے پیڑوں پر
ابھی تو ہاتھ بانٹے جا رہے ہیں باغبانوں میں

بہت ممکن ہے پتھر کے زمانے کے نظر آؤ
اگر پیدا کیا جائے تمہیں پچھلے زمانوں میں

نہ پنجے ہیں نہ پر ہیں اور نہ ہے پرواز کی طاقت
جو نغمہ سنج ہونا ہو تو لکنت ہے زبانوں میں

چلا آتا ہے بستی میں لیے زنبیل فتووں کی
تو ایسا کر بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم