MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمارے ہنسنے ہنسانے پہ کیوں زوال آیا

غزل

ہمارے ہنسنے ہنسانے پہ کیوں زوال آیا
جب اس نے طنز کیا تب ہمیں خیال آیا

مجھے ستایا جہاں نے تو میں نے اف بھی نہ کی
اداس وہ ہوئی تب مجھ کو اشتعال آیا

وہ ہنس پڑی تو مری سوچ کام کرنے لگی
ؔمیں خوش ہوا کہ مرے ذہن میں سوال آیا

گھرا ہوا تھا میں چاروں طرف سے رن میں مگر
میں جنگ جیت گیا تب ترا خیال آیا

کسی بھی ڈر کی رمق تک نہیں رہی دل میں
ہمیں قرار بھی آیا تو بے مثال آیا

اداس جب بھی ہوا دل بچھڑ گئے خود سے
ہمارا حوصلہ ٹوٹا تو یہ کمال آیا

معاملاتِ محبت سے منسلک نہ ہوئے
جو دھیان بھی ہمیں ی وہ حثبِ حال آیا

فضا ادھر کی سرائیت نہ کر سکی مجھ میں
ہمیشہ لوٹ کے میں اپنے گھر نڈھال آیا

خیالِ دوست ہی آیا تھا ایک دن محسن
پھر اس کے بعد کہا دوسرا خیال آیا


محسن اسرار



 

 

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم