غزل
ہم سے ملنے کا سلسلہ رکھنا
دل میں چاہے کوئی شکوہ رکھنا
محفل غیر میں چلے ائے
تو مناسب ہے فاصلہ رکھنا
آس کی شاخ سوکھتی جائے
ہے قیامت پہ حوصلہ رکھنا
کوئی بھٹکا ہوا نہ ا نکلے
راہ میں ایک دیا جلا رکھنا
وقت کی اندھیاں چلیں جتنی
دل کا روبی کنول کھلا رکھنا
روبینہ راجپوت