MOJ E SUKHAN

ہم سے ملنے کا سلسلہ رکھنا

غزل

ہم سے ملنے کا سلسلہ رکھنا
دل میں چاہے کوئی شکوہ رکھنا

محفل غیر میں چلے ائے
تو مناسب ہے فاصلہ رکھنا

آس کی شاخ سوکھتی جائے
ہے قیامت پہ حوصلہ رکھنا

کوئی بھٹکا ہوا نہ ا نکلے
راہ میں ایک دیا جلا رکھنا

وقت کی اندھیاں چلیں جتنی
دل کا روبی کنول کھلا رکھنا

روبینہ راجپوت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم