MOJ E SUKHAN

یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا

غزل

یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا
تعاقب کر رہا ہوں روشنی کا

شگوفے پھول بنتے جا رہے ہیں
گیا موسم مری دیوانگی کا

نہ رکھو خواہش چہرہ نمائی
نہ دے گا ساتھ آئینہ کسی کا

میں زندہ ہوں وسیلے سے کسی کے
وگرنہ مر گیا ہوتا کبھی کا

اختر سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم