MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ تری زلف کا کنڈل تو مجھے مار چلا

یہ تری زلف کا کنڈل تو مجھے مار چلا
جس پہ قانون بھی لاگو ہو وہ ہتھیار چلا

پیٹ ہی پھول گیا اتنے خمیرے کھا کر
تیری حکمت نہ چلی اور ترا بیمار چلا

بیویاں چار ہیں اور پھر بھی حسینوں سے شغف
بھائی تو بیٹھ کے آرام سے گھر بار چلا

اجرت عشق نہیں دیتا نہ دے بھاڑ میں جا
لے ترے دام سے اب تیرا گرفتار چلا

سنسنی خیز اسے اور کوئی شے نہ ملی
میری تصویر سے وہ شام کا اخبار چلا

یہ بھی اچھا ہے کہ صحرا میں بنایا ہے مکاں
اب کرائے پہ یہاں سایۂ دیوار چلا

اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم!!
مڑ کے دیکھا نہ کسی نے جو قلم کار چلا

چھیڑ محبوب سے لے ڈوبے گی کشتی جیدیؔ
آنکھ سے دیکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا

اطہر شاہ خان جیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم