MOJ E SUKHAN

یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ چھپ چھپا کے پیو

غزل

یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ چھپ چھپا کے پیو
یہ مے ہے مے اسے اوروں کو بھی پلا کے پیو

غم جہاں کو غم زیست کو بھلا کے پیو
حسین گیت محبت کے گنگنا کے پیو

چھٹے نہ دامن طاعت بھی وقت مے نوشی
پیو تو سجدۂ الفت میں سر جھکا کے پیو

بجھے بجھے سے ہوں ارماں تو کیا فروغ نشاط
جو سو گئے ہیں ستارے انہیں جگا کے پیو

غم حیات کا درماں ہیں عشق کے آنسو
اندھیری رات ہے یارو دیے جلا کے پیو

نصیب ہوگی بہر کیف مرضیٔ ساقی
ملے جو زہر بھی یارو تو مسکرا کے پیو

مرے خلوص پہ شیخ حرم بھی کہہ اٹھا
جو پی رہے ہو تو درشنؔ حرم میں آ کے پیو

درشن سنگھ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم