MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ابھی چہرے کا اس نے بھولپن کھویا نہیں تھا

ابھی چہرے کا اس نے بھولپن کھویا نہیں تھا
وہ باشندہ ہی اس دنیا کا تو گویا نہیں تھا

پڑی تھی درد کی وہ جھریاں چہرے پہ گہری
لگا جیسے وہ برسوں سے کبھی سویا نہیں تھا

وہ ڈرتا تھا کہ رونے کی سزا بھی ہو گی شاید
یہی رو رو کے کہتا تھا کہ وہ رویا نہیں تھا

سمجھ آتا کسی کو بارِ غم اس کا تو کیسے
کسی نے لاش کو اپنی کبھی ڈھویا نہیں تھا

وہ دکھ آنکھوں میں لے کر جس طرح سے ہنس رہا تھا
میں اپنے بھی غموں پر اس طرح رویا نہیں تھا

کھلے نہ پھول ، نہ پتّے ، اگے کانٹے ہی کانٹے
یہ تو نے رازؔ ایسا بیج تو بویا نہیں تھا

رازداں راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم