MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب جو مجھ سے انہیں حجاب نہیں

غزل

اب جو مجھ سے انہیں حجاب نہیں
دل کو پہلا سا اضطراب نہیں

ہے انہیں مجھ پہ اعتماد وفا
اب انہیں مجھ سے اجتناب نہیں

بخش کر لطف وصل کہتے ہیں
اب نہ کہنا کہ کامیاب نہیں

اس قدر ہیں وہ مہرباں مجھ پر
ان کے الطاف کا حساب نہیں

کامیاب وصال جاناں ہوں
پھر بھی کہتے ہیں کامیاب نہیں

میں تو سیراب عیش وصل کروں
کیا کروں تجھ کو اس کی تاب نہیں

میں یہ کیونکر کہوں کہ حسب مراد
دل پر شوق کامیاب نہیں

آپ سے چھٹ کے رہ نہیں سکتا
بخدا اس کی دل کو تاب نہیں

اب بھی ہوں بے قرار لطف و کرم
گو وہ اگلا سا اضطراب نہیں

آپ کے رحم کی ضرورت ہو
حال دل اس قدر خراب نہیں

وہ نظر لاکھ بے حجاب سہی
دست گستاخ کا جواب نہیں

آج دنیائے دل بری میں کہیں
آپ کے حسن کا جواب نہیں

آج لاکھوں میں انتخاب ہیں آپ
دور دور آپ کا جواب نہیں

رخ جاناں میں اب بھی ہے اک بات
گو وہ پہلی سی آب و تاب نہیں

آپ کی چشم مست کے آگے
اثر مستیٔ شراب نہیں

آپ کے حسن کے مقابل میں
کوئی شے سرخئ گلاب نہیں

سچ تو یہ ہے جمال جاناں کا
ایک پرتو ہے آفتاب نہیں

آج تیرے سوا جلیلؔ کوئی
رنگ حسرت میں کامیاب نہیں

جلیل قدوائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم