MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

انجان سی خواہش میں وہ دن بھی نظر آئے

انجان سی خواہش میں وہ دن بھی نظرآئے
دن بھرکی تھکن لے کر ہم شام کو گھرآئے

پھر تو نے ہمیں اپنی اوقات دکھائی ہے
"پھر تیری تباہی کے آثار نظر آئے”

اس دور میں چوپالیں لگتی ہی نہیں ورنہ
بچوں پہ بزرگوں کا تھوڑا تو اثر آئے

دریائے تخیّل میں غرقآب کیا خود کو
تب جا کے نظر مجھ کو دو چار گہر آئے

دھندلا نہ کہیں جائے اس بزم کی رعنائی
آنکھوں میں لئے کتنے ہم شمس وقمر آئے

سر اپنا جھکائے ہم بیٹھے رہے اک جانب
اٹھ کر تری محفل سے با دیدۂِ تر آئے

چیلنج پڑوسی کا "مختار” کچھ ایسا تھا
آنے کو نہیں تھے ہم پردیس، مگر آئے

مختار تلہری ثقلینی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم