MOJ E SUKHAN
No Record Found
تُم
اس دُنیا میں تُم میری بھٹکتی ہوئی, بے راہرو زندگی اور لا حاصل خواہشوں کا مکمل ایڈریس ہو!
معظمہ نقویؔ۔
محبت کر چکی ہے کام اپنا
آ جائیں کام اس لیے گِن کے بہاو میں
لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں
ہم تم
اک تبسم ہمہ ایام گراں باری بھی
یہ گل جس خاک سے لایا گیا ہے
کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد
چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے
نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے