Aap Ki Mohabat Main kia Batain Kia Paya
غزل
آپ کی محبت میں کیا بتائیں کیا پایا
بارِ غم اٹھانے کا ہم نے حوصلہ پایا
دل کو کر لیا ہلکا ہم نے حال دل کہہ کر
شہر اجنبی میں جب کوئی آشنا پایا
ہم کو اپنے چہرے کی خامیاں نظر آئیں
اپنے رو برو جب بھی ہم نے آئنہ پایا
مل ہی جائےگی اک دن ہم کو منزلِ مقصود
خوش نصیب ہیں ہم نے ایسا رہنما پایا
قدر ہی نہ کی ہم نے اس لطیف انساں کی
ڈھونڈتے ہیں اب اسکو جس کو بارہا پایا
کیوں غرور ہے اتنا آپ کو بلندی پر
ہم نے شام کو سورج ڈوبتا ہوا پایا
کشمکش میں گزری ہے زندگی فراز اپنی
سانس سانس کا اپنی تنگ راستہ پایا
سرفراز احمد فراز دہلوی
Sarfaraz Ahmed Faraz Dehlvi