MOJ E SUKHAN

کب سے الجھ رہے ہیں دم واپسیں سے ہم

کب سے الجھ رہے ہیں دم واپسیں سے ہم
دو اشک پونچھنے کو تری آستیں سے ہم

ہوگا تمہارا نام ہی عنوان ہر ورق
اوراق زندگی کو الٹ دیں کہیں سے ہم

سنگ در عدو پہ ہماری جبیں نہیں
یہ سجدے کر رہے ہیں تمہاری جبیں سے ہم

دہرائی جا سکے گی نہ اب داستان عشق
کچھ وہ کہیں سے بھول گئے ہیں کہیں سے ہم

بسملؔ حریم حسن میں ہیں کامیاب شوق
جوش شباب و رنگ رخ آتشیں سے ہم

بسمل سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم