MOJ E SUKHAN

خدا کے سامنے روز جزا ہوں گے تو ہم ہوں گے

خدا کے سامنے روز جزا ہوں گے تو ہم ہوں گے
نوا سنج حقیقت لب کشا ہوں گے تو ہم ہوں گے

نہ ہوگا واں رسا کوئی رسا ہوں گے تو ہم ہوں گے
غلامان محمد مصطفیٰ ہوں گے تو ہم ہوں گے

بہ خلوت گاہ یزدانی صبا تک بھی نہ پہنچے گی
نوا بن کر دعا ہو کر رسا ہوں گے تو ہم ہوں گے

ہمیں پروا نہیں ہے تاب خورشید قیامت کی
کہ زیر دامن خیر الورا ہوں گے تو ہم ہوں گے

ہم اپنی تشنہ کامی پر ابھی سے پھولے بیٹھے ہیں
مئے کوثر سے پہلے آشنا ہوں گے تو ہم ہوں گے

غلامان محمدؐ ہم ہیں اور آزاد مشرب ہیں
ہمیں شرم خطاؤں سے رہا ہوں گے تو ہم ہوں گے

جناب ساقیٔ کوثر لب کوثر صلا دیں گے
صلائے عام کی پہلی صدا ہوں گے تو ہم ہوں گے

بہ حسرت ہم کو دیکھیں شہنشاہان خود آرا
کہ فردوس بریں میں اون کی جا ہوں گے تو ہم ہوں گے

مسیح و خضر دیکھیں گے ہمیں حیرت نگاہی سے
غلام مصطفیٰؐ زیر لوا ہوں گے تو ہم ہوں گے

شفاعت کا پیمبر کی بھروسا ہی نہیں راقمؔ
دم پرسش گرفتار بلا ہوں گے تو ہم ہوں گے

راقم دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم