MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

راستے سب ہی اگر بند ہوں مرنے کے سوا

راستے سب ہی اگر بند ہوں مرنے کے سوا
زندگی جیتا تو کس طور میں لڑنے کے سوا

دل حویلی میں سسکتی ہو اگر تشنہ لبی
اور کچھ کرتی نہیں آنکھیں برسنے کے سوا

میں نے پیروں میں سفر باندھ لیا جس کے لیے
اس کو آتا ہی نہیں کچھ بھی سنورنے کے سوا

دل کی گلیوں میں اگر ہونے لگے شورِ انا
چارہ گر چارہ نہیں ہوتا بکھرنے کے سوا

تھا اسے علم کے ہو جائے گا رسوائے جہاں
عشق کیا کرتا مرے دل میں اترنے کے سوا

ہم وہ اشرف ہیں سرِ بزم تماشائے حیات
کر نہیں پائے جو کچھ وقت سے ڈرنے کے سوا

منزلیں ملتی نہیں ملتا نہیں رازِ حیات
ڈوب کر درد سمندر میں ابھرنے کے سوا

شامِ غم کیسے کٹے کیسے کٹے ہجر کی رات
مشورہ دے کوئی دل جاں سے گزرنے کے سوا

اس لیے کر گئی تنہائی مجھے اپنا شکار
مجھ کو آیا ہی نہیں کچھ بھی ترسنے کے سوا

جب مرے نام ہے اس موجِ نسیمی کی وفا
اور کیا کرتا میں پر اپنے کترنے کے سوا

نسیم شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم