MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بےخبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا​

بےخبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا​
چاہے جانے کے سبھی عیب و ہُنر رکھتا تھا​

​لاتعلق نظر آتا تھا بظاہر لیکن​
بےنیازانہ ہر اِک دل میں گزر رکھتا تھا​

​اُس کی نفرت کا بھی معیار جدا تھا سب سے​
وہ الگ اپنا اِک اندازِ نظر رکھتا تھا​

​بےیقینی کی فضاؤں میں بھی تھا حوصلہ مند​
شب پرستوں سے بھی اُمیدِ سحر رکھتا تھا​

​مشورے کرتے ہیں جو گھر کو سجانے کے لیے​
اُن سے کِس طرح کہوں، میں بھی تو گھر رکھتا تھا​

​اُس کے ہر وار کو سہتا رہا ہنس کر محسن​
یہ تاثر نہ دیا، میں بھی سپر رکھتا تھا​

​محسن بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم