MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رہا کرتا ہے اکثر تذکرہ بربادئی دل کا

رہا کرتا ہے اکثر تذکرہ بربادئی دل کا
میں بگڑا ہوں تو افسانہ بنا ہوں ان کی محفل کا

نشانہ بن گیا بیٹھے بٹھائے تیرِ قاتل کا
چلو چھٹی ہوئی، جھگڑا مٹا، قصہ گیا دل کا

قیامت کی کشش رکھتے ہیں ذرے خاکِ ساحل کے
کہ موجیں آخری دم تک بھی دم بھرتی ہیں ساحل کا

تھکے ماندے مسافر آ پڑے آرام کی خاطر
بڑا احسان ہے ان غم زدوں پر پہلی منزل کا

دلِ مجروح اپنے زخم پر پھاہا لگانے کو
کنارہ چاہتا ہے دامنِ شمشیر قاتل کا

مرا دل ٹوٹ جائے گا نہ کھینچ اس کو نہ کھینچ اس کو
ترا ناوک نہیں ظالم یہ ٹکڑا ہے مرے دل کا

مرے احباب بعدِ مرگ اس حیرت سے تکتے ہیں
کہ جیسے میرے ماتھے پر ہے لکھنا نام قاتل کا

انہیں پردا نہیں ہے تو نہ ہو یہ کام ان کا ہے
ہمیں تو حال کہہ دینا کبھی اپنا کبھی دل کا

دلِ مشتاق افسرؔ کو اگر حیراں بنایا ہے
تو رکھیں آپ اسے آئینہ کر کے اپنی محفل کا

افسر صدیق امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم