MOJ E SUKHAN

لفظوں میں کچھ ایسے پہلو باندھ لیے

لفظوں میں کچھ ایسے پہلو باندھ لیے
ہم نے خود ہی اپنے بازو باندھ لیے

دل کی بنجر دھرتی جل تھل رہتی ہے
جب سے اپنی آنکھ میں آنسو باندھ لیے

دیکھ میں تیری سانسوں تک آ پہنچا ہوں
میں نے تیرے سارے جادو باندھ لیے

یہ معلوم تھا رستہ گھپ اندھیرا ہے
سوچوں کے پلو میں جگنو باندھ لیے

ساون رت کی آمد آمد ہے عرفان
بارش نے پیروں میں گھنگرو باندھ لیے

عرفان صادق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم