MOJ E SUKHAN
No Record Found
پاگل پن کی باتیں ہیںچندا ہے دو چار دنوں کاآگے اندھی راتیں ہیں
عظمی جون
تجھ سے اک ہاتھ کیا ملا لیا ہے
عہدِ نو کرنا ضروری ہوگیا
رنج وحشت زدہ نہ کر ڈالے
گپ کی افراط کا ڈر دونوں طرف ہے
کیوں کرتا ہے کم ظرفوں سے تو تکرار سمندر
اس نے پھر دردِ محبت کی دوا دے دی ہے
بازیچہِ اطفال ہے دنیا مرے آگے
تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئے
وہ ایک شخص کہ منزل بھی راستا بھی ہے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے