MOJ E SUKHAN

کھو چکا ہوگا جنوں بس آگہی رہ جائے گی

کھو چکا ہوگا جنوں بس آگہی رہ جائے گی
زندہ ہوں گے لوگ پرکب زندگی رہ جائے گی

بیچ دی جائے گی غم کے ہاتھ دلکی آبرو
اور پھر ہمراہ اک شرمندگی رہ جائے گی

چھین لی جائے گی آنکھوں سے بصارت کی بہار
اور ہمیشہ کے لیے ان میں نمی رہ جائے گی

دل لگانے والے اس بستی سے کر جائیں گے کوچ
اور اس بستی میں باقی بے دلی رہ جائے گی

سب چراغ اک ایک کرکے اپنی لو کھو دیں گے اور
اپنے چاروں سمت اک تیرہ شبی رہ جائے گی

کیا ہوائے مصلحت تھی لے اڑی غم بھی ترا
ہم سمجھتے تھے یہ اک مشعل جلی رہ جائے گی

وہ مثالِ ابرِ آوارہ گزرتا جائے گا
اور ساری خلق اس کو دیکھتی رہ جائے گی

ڈاکٹر اقبال پیرزادہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم