MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سکہ چلے چمن میں خزاں یا بہار کا

سکہ چلے چمن میں خزاں یا بہار کا
یہ درد سر ہے گردشِ لیل و نہار کا

آ بیٹھتا ہے سایہء دیوار دیکھ کر
کیا حال پوچھتے ہو غریب الدیار کا

مجھ کو نہ دیکھ میرے دل خوں شدہ کو دیکھ
میں نے خزاں میں پھول کھلایا بہار کا

لازم ہے اپنے اپنے نشیمن کی فکر بھی
یہ معرکہ ہے چشمک برق و شرار کا

اس فصل گل میں دل پہ جو خالد گزر گئی
اب اس کے بعد نام نہ لینا بہار کا

قصہ ہے بس یہ کشمکشِ اقتدار کا
کچھ دور اختیار کا کچھ اختیار کا

خالد علیگ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم