MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ اپنا دل کہاں مانے کہ ہم آزاد بھی ہونگے

یہ اپنا دل کہاں مانے کہ ہم آزاد بھی ہونگے
پرندے جس جگہ ہونگے وہاں صیاد بھی ہونگے

برا جب وقت آجاۓ اسے اک امتحاں سمجھیں
کبھی ہم شاد بھی ہونگے کبھی ناشاد بھی ہونگے

بناۓ جوڑ کر تنکے یہ سوچا ہی نہیں ہم نے
سفینے تند لہروں سے کبھی برباد بھی ہونگے

یہ چلمن اور ردا تیری ضمانت ہے حفاظت کی
جہاں شیریں بھٹکتی ہو کئی فرہاد بھی ہونگے

سنبھالو دل کی حالت کو کہ چہرے سے عیاں نا ہو
شبِ فرقت کے سینے میں سخن آباد بھی ہونگے

نہ ہانکو ایک لاٹھی سے سبھی کو یہ بھی تو سوچو
کہ اس بونوں کی بستی میں قدِ شمشاد بھی ہونگے

برا مانے تو کیا مانے بھلا اشرف زمانے کا
مرے اشعار اک دن جانتا ہوں یاد بھی ہونگے

اشرف بابا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم