MOJ E SUKHAN

دل اگر تیری محفل بنے

دل اگر تیری محفل بنے
ناز کرنے کے قابل بنے

جن پہ تیری توجہ ہوئی
ذرے وہ ماہ کامل بنے

لطف جب ہے کہ میری نظر
تیرے جلووں کے قابل بنے

مجھ کو وہ غم عطا کیجیے
زندگی کا جو حاصل بنے

عشق سے ہو رہی ہے جلا
کیوں نہ اب آئینہ دل بنے

وہ کہیں ہاتھ پھیلائے کیوں
تیرے در کا جو سائل بنے

جس پر پڑ جائے تیری نظر
کیوں نہ دل اس کا بسمل بنے

شکر کرتا رہوں گا تیرا تیرا
زندگی لاکھ مشکل بنے

کھیلتا ہوں میں طوفان میں
کیوں نہ ہر موج ساحل بنے

اب تو صادقؔ ہے یہ آرزو
عشق ہی میری منزل بنے

صادق دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم